چیک کو کم قیمت میں بیچنا خریدنا
سوال
چیک کو کم قیمت میں بیچناخریدنا کیساہے؟
جواب
چیک کو کم قیمت میں بیچناخریدنا جائز نہیں ہے، اس لیے کہ چیک درحقیقت قرض یا دین کی رسید ہے، جس کو کم یا زیادہ قیمت میں بیچا نہیں جاسکتا۔
"تنقیح الفتاوی الحامدیة" میں ہے:
"الدیون تقضیٰ بأمثالها".
(کتاب البیوع، باب القرض، ج؛۱ ؍ ۵۰۰ ، ط:قدیمی)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"و في الأشباه: کل قرض جر نفعاً حرام".
(کتاب البیوع، فصل فی القرض، ج:۵ ؍ ۱۶۶ ، ط:سعید )
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144208200612
تاریخ27-03-2021

