بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زمین کا کرایہ متعین کرنا

سوال

زمیندار کو زمین کرایہ پر دینا کہ اس میں کوئی بھی فصل کاشت کرو،  مگر سال کے پچاس   ہزار دوگے، درست  ہے؟

جواب

صورت ِِمسئولہ میں   کسان کے  ساتھ  اگر مزارعت اور بٹائی کا معاہدہ کیا جائے تو اس صورت میں اس طرح رقم کو متعین کرنا درست نہیں ہے کہ تم پچاس ہزار روپے سالانہ دو گے ۔

البتہ اگر اپنی زمین اس کو  کرائے پر دی جائے اور اس سے سالانہ متعین کرایہ وصول کیا جائے تو اس میں متعین رقم مقرر کرنا درست ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

ومنها أن تكون الأجرة معلومةً. ومنها أن لاتكون الأجرة منفعةً هي من جنس المعقود عليه كإجارة السكنى بالسكنى والخدمة بالخدمة."

(4/ 411،  کتاب الاجارۃ، الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها، ط: رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200608
تاریخ27-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں