زمین کا کرایہ متعین کرنا
سوال
زمیندار کو زمین کرایہ پر دینا کہ اس میں کوئی بھی فصل کاشت کرو، مگر سال کے پچاس ہزار دوگے، درست ہے؟
جواب
صورت ِِمسئولہ میں کسان کے ساتھ اگر مزارعت اور بٹائی کا معاہدہ کیا جائے تو اس صورت میں اس طرح رقم کو متعین کرنا درست نہیں ہے کہ تم پچاس ہزار روپے سالانہ دو گے ۔
البتہ اگر اپنی زمین اس کو کرائے پر دی جائے اور اس سے سالانہ متعین کرایہ وصول کیا جائے تو اس میں متعین رقم مقرر کرنا درست ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
ومنها أن تكون الأجرة معلومةً. ومنها أن لاتكون الأجرة منفعةً هي من جنس المعقود عليه كإجارة السكنى بالسكنى والخدمة بالخدمة."
(4/ 411، کتاب الاجارۃ، الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها، ط: رشیدیہ)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

