بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی نیت کرنے کے بعد اس رقم سے زکوۃ ادا کرنا

سوال

میں اپنی آمدنی کا یا منافع کا10 فیصد اللہ  کی راہ میں خرچ کرتا ہوں،  کیا ان پیسوں سے میں زکات  دے سکتا ہوں؟اور کیا قسم توڑنے کاکفارہ بھی دے سکتا ہوں ؟یا پھر زکات اور کفارہ الگ پیسوں سے دینا ہو گا؟ 

جواب

اگر آپ نے اپنے منافع یا آمدنی میں سے دس فیصد حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی محض نیت کی ہے، نذر اور منت   کے ذریعہ (یعنی زبان سے الفاظ ادا کرکے) اس کو اپنے اوپر لازم نہیں کیا ہے تو  اِسی حصہ میں سے زکات اور قسم کا کفارہ ادا کرنا درست ہو گا، لیکن بہتر یہ ہے کہ دونوں مدوں کو الگ الگ رکھا جائے،  جو حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کو الگ خرچ کریں  اور زکات اور قسم کا کفارہ الگ خرچ کریں۔

لیکن اگر آپ  نے  زبان سے الفاظ ادا کرکے اپنی آمدنی کے دس فیصد حصے کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا  اپنے اوپر لازم کیا ہے تو  یہ نذر منعقد ہوگئی، ایسی صورت میں اس مد میں سے  زکات اور قسم کا کفارہ ادا کرنا   درست نہیں ہو گا۔   فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200596
تاریخ27-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں