بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عزاہ نام رکھنا

سوال

کیا میں اپنی بیٹی کا نام "عزاہ"  رکھ  سکتا ہوں؟

جواب

اگر آپ اپنی بیٹی کا نام رکھنا چاہتے  ہیں تو ’’عِزا‘‘  یا ’’عِزه‘‘ عین کے زیر اور زا کے زبر و تشدید کے ساتھ نام رکھ  سکتے ہیں، جس کے معنی عزت ، قوت، شرافت، غلبہ وغیرہ کے آتے ہیں۔

باقی  "عزاہ" تعزیت کرنے کے معنیٰ میں  آتا ہے، اسی طرح اس کا  ایک معنیٰ منسوب کرنا ہے،  پھر اس میں آخر میں "ہ" بھی زائد ہے، اس لیے  "عزاہ" نام نہ رکھا جائے۔

عَزَّ : (معجم الوسيط):

"عَزَّ فلانٌ عَزَّ عِزًّا، وعِزَّةً، وعَزَازَةً: قوِي وبَرئ من الذُّلّ. يقال: عَزَّ فلانٌ على فلانٍ: كرُم عليه. عَزَّ الشيءُ: قلَّ فلايكاد يوجد. عَزَّ الأَمرُ عليه: اشتدَّ، يقال: عَزَّ عليَّ أَن تفعل كذا: اشتدَّ وشَقَّ فهو عزيز. والجمع : أَعزَّةٌ، وأَعِزَّاءُ، وعِزازٌ. عَزَّ فلاناً عَزَّ عَزًّا: غَلَبَهُ وقَهَرَهُ.، وفي التنزيل العزيز: ص آية 23: {فَقَالَ أَكْفِلْنِيهَا وَعَزَّنِي فِي الخِطَابِ}."

شمس العلوم ودواء كلام العرب من الكلوم (7/ 4519)

"و [عَزَا]: عزاه إلى أبيه: أي نسبه."

معجم اللغة العربية المعاصرة (2/ 1496):

"عزَا يعزو، اعْزُ، عَزْوًا، فهو عازٍ، والمفعول مَعزُوّ.

عزَا الشَّخصَ: نسبه "عزاه إلى أبيه."

لسان العرب (15/ 52):

"عزا: العزاء: الصبر عن كل ما فقدت، وقيل: حسنه، عزي يعزى عزاء، ممدود، فهو عز. ويقال: إنه لعزي صبور إذا كان حسن العزاء على المصائب. وعزاه تعزية، على الحذف والعوض، فتعزى."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200588
تاریخ25-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں