بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غصہ میں خود کو کافر کہنے کا حکم

سوال

غصہ کی حالت میں خود کو کافر کہہ دینا، اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کوئی آدمی غصہ میں  اپنے اختیار سے اپنے آپ کو  صراحتًا کافر کہہ دے تو وہ اپنے قول کی وجہ سے کافر ہوجائے گا، اس کے لیے تجدیدِ ایمان اور تجدیدِ نکاح کرنا ضروری ہو گا۔

الفتاوى الهندية (2/ 283):

"رجل كفر بلسانه طائعاً، وقلبه مطمئن بالإيمان يكون كافراً، ولايكون عند الله مؤمناً، كذا في فتاوى قاضي خان".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200572
تاریخ25-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں