بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وقت نکل جانے پر تراویح کی قضا نہیں

سوال

اگر تراویح پڑھانے والے امام کی نماز فاسد ہوجائے اور رمضان گزر جائے تو کیا اُس کی قضا  ضروری ہے؟

جواب

تراویح  کی نماز اگر کسی وجہ سے  فاسد ہو جائے اور  وقت کے اندر اندر معلوم ہو جائے، تو  وقت کے اندر  ادا کی جائے گی، جماعت کے ساتھ  یا تنہا دونوں طرح ادا کرنا جائز ہے۔  اور وقت کے نکل جانے کے بعد  تراویح کی نماز کی قضا  نہیں ہے؛   لہذا صورتِ  مسئولہ میں رمضان کے بعد  تراویح کی نماز کی قضا نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا فاتت التراويح لاتقضى بجماعة ولا بغيرها وهو الصحيح، هكذا في فتاوى قاضي خان. وإذا تذكروا أنه فسد عليهم شفع من الليلة الماضية فأرادوا القضاء بنية التراويح يكره ولو تذكروا تسليمة بعد أن صلوا الوتر قال محمد بن الفضل: لايصلونها بجماعة وقال الصدر الشهيد يجوز أن يصلوها بجماعة، كذا في السراج الوهاج."

(کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج: 1، صفحہ: 117، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200566
تاریخ25-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں