وقت نکل جانے پر تراویح کی قضا نہیں
سوال
اگر تراویح پڑھانے والے امام کی نماز فاسد ہوجائے اور رمضان گزر جائے تو کیا اُس کی قضا ضروری ہے؟
جواب
تراویح کی نماز اگر کسی وجہ سے فاسد ہو جائے اور وقت کے اندر اندر معلوم ہو جائے، تو وقت کے اندر ادا کی جائے گی، جماعت کے ساتھ یا تنہا دونوں طرح ادا کرنا جائز ہے۔ اور وقت کے نکل جانے کے بعد تراویح کی نماز کی قضا نہیں ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں رمضان کے بعد تراویح کی نماز کی قضا نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"إذا فاتت التراويح لاتقضى بجماعة ولا بغيرها وهو الصحيح، هكذا في فتاوى قاضي خان. وإذا تذكروا أنه فسد عليهم شفع من الليلة الماضية فأرادوا القضاء بنية التراويح يكره ولو تذكروا تسليمة بعد أن صلوا الوتر قال محمد بن الفضل: لايصلونها بجماعة وقال الصدر الشهيد يجوز أن يصلوها بجماعة، كذا في السراج الوهاج."
(کتاب الصلاۃ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج: 1، صفحہ: 117، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

