بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حالتِ حمل میں دی ہوئی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے

سوال

میرے  شوہر  نے  مجھے  حمل  کی حالت میں طلاق دی ہے، کیا حمل میں دی ہوئی طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ اور وہ بچے  کی ذمہ داری نہیں لے رہا،  معلوم یہ کرنا ہے کہ  وہ  (شوہر)  بچے کے کتنے ذمہ دار ہیں؟ یعنی:  بچے کے نان ونفقہ اور پرورش کی ذمہ داری کس پر ہو گی؟

جواب

واضح رہے کہ   حمل کی حالت میں دی ہوئی  طلاق  بھی واقع ہوجاتی ہے؛ لہذا صورتِ  مسئولہ میں طلاق واقع ہو چکی ہے،  البتہ حمل کی صورت میں عدت اس وقت ختم ہوگی  جب بچے  کی پیدائش ہوجائے گی۔ 

نیز میاں بیوی میں جدائی کی صورت میں  بچہ سات  سال کی عمر تک اور بچی نوسال کی عمر تک ماں کی پرورش میں رہے گی، اس کے بعد والد کو لینے کا اختیار ہو گا، بہرصورت اس دوران  بچوں  کے نان ونفقہ کی ذمہ داری بچوں کے باپ کی حیثیت سے اس کے ذمے لازم ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:

"(وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل."

(کتاب الطلاق،ج: 3/ صفحہ: 232، ط: ایچ، ایم، سعید)   

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"نفقة الأولاد الصغار على الأب لايشاركه فيها أحد، كذا في الجوهرة النيرة ... وبعد الفطام يفرض القاضي نفقة الصغار على قدر طاقة الأب و تدفع إلى الأم حتي تنفق علي الأولاد، فإن لم تكن الأم ثقةً تدفع إلى غيرها لينفق على الولد."

(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ج:1/صفحہ: 560 و561، ط: رشيدية)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200564
تاریخ25-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں