بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں انجکشن لگانے کا حکم

سوال

روزے کی حالت  میں انجکشن لگانا کیسا ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ روزے کی حالت میں انجکشن لگوانا جائز ہے، خواہ رگ میں لگوایا جائے یا گوشت میں؛  کیوں کہ انجکشن کے ذریعہ جو دوا بدن میں پہنچائی جاتی ہے وہ اصلی راستوں (منفذ)سے نہیں، بلکہ رگوں یا مسامات کے ذریعہ بدن  میں  جاتی ہے، جب کہ روزہ فاسد ہونے کے لیے ضروری ہے  کہ بدن کے اصلی راستوں سے کوئی  چیز  جسم کے اندر  پہنچے اور انجکشن میں ایسا نہیں ہوتا، لہٰذا روزہ کی حالت میں انجکشن لگانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، البتہ بلا ضرورت  روزے کا احساس نہ ہونے کے  لیے طاقت کا انجکشن یا ڈرپ لگانا مکروہ ہے۔

فتاوی عالمگیری (الفتاوی الہندیۃ) میں ہے:

"وما يدخل من مسام البدن من الدهن لا يفطر هكذا في شرح المجمع."

(كتاب الصوم، الباب الرابع فيما يفسد ومالايفسد، ج:1، ص:203، ط:مكتبه رشيديه)

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200540
تاریخ24-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں