بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کو خدمت نہ کرنے کی وجہ سے جہنمی کہنا

سوال

اگر  شوہراپنی بیوی سے کہے کہ تو مىری خدمت نہیں کرتی؛  اس لیے تو  جہنمی ہے تو  اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

کسی بھی انسان کی زندگی  میں اس کے جنتی ہونے یا جہنمی ہونے کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اس  لیے  کسی کافر کو بھی کفر پر  مرنے سے پہلے زندگی  میں جہنمی کہنا جائز نہیں ہے،  چہ جائیکہ کسی گناہ گار مسلمان کو، لہٰذا مذکورہ شخص کا اپنی بیوی کو خدمت نہ کرنے کی وجہ سے جہنمی کہنا انتہائی نامناسب بات ہے، ایسی بات کہنا اللہ تعالیٰ پر بڑی جرأت کرنے کے مترادف ہے، یعنی جو فیصلہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے وہ فیصلہ بندہ خود اپنی جہالت سے کرلے تو  یہ بہت بڑی جرأت ہے، اس  لیے مذکورہ شخص اپنی بیوی سے معذرت کر ےاور  سچے دل سے توبہ و استغفار کر ے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200528
تاریخ24-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں