بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بھائی اور دو بہنوں میں 18 مرلہ زمین کی تقسیم

سوال

18مرلہ زمین کی تقسیم 2 بھائی اور 2 بہنوں کے درمیان کیسے ہو گی؟  اور اگر تقسیم کا کوئی فارمولا ہے جس سے بندہ خود جان سکتا ہے کہ ہر کسی کو کتنا حصہ ملے گا تو وہ بھی بتا دیں،  بھائی بہنوں کی کسی بھی تعداد کے بارے میں۔

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں والدین کے ترکہ  کی  زمین    ان کے شرعی ورثاء دو بیٹے اور دو بیٹیوں میں تقسیم کا  طریقہ  یہ ہے کہ   مکمل ترکہ  کو 6 حصوں میں تقسیم کرکے 2، 2 حصے ہر ایک بیٹے کو اور ایک، ایک حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

یعنی  18 مرلہ میں سے 6، 6 مرلہ ہر ایک بیٹے کو، اور 3، 3 مرلہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔

اور نقد رقم کے حساب سے تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مثلًا   100 روپے  میں  سے  ہر  ایک  بیٹے کو    33.33 روپے کرکے اور ہر ایک بیٹی کو   16.16 روپے کرکے ملیں گے۔

میراث کے مسائل میں ورثاء کی تعداد اور حیثیت تبدیل ہونے سے ان کے حصے مختلف ہوتے رہتے ہیں، اور اس کے ضوابط "علم الفرائض/ علم المیراث" میں مقرر ہیں، جن کا ماخذ قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ ہیں۔ لہٰذا بوقتِ ضرورت میراث کی کتابوں کی طرف یا اس کے ماہرین کی  طرف رجوع کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200515
تاریخ24-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں