بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 06 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جانور کو راحت دینے کے لیے مار دینے کا حکم

?سوال

اگر کوئی جانور بوجہ بیماری تکلیف میں ہو اور کوئی دوا اثر نہ کر رہی ہوتو کیا اسے گولی  مار سکتے ہیں؛ تا کہ وہ سکون میں آجائے؟

✓جواب

اگر کوئی  حلال  ماکول  اللحم  جانور  (یعنی جس کا گوشت کھایا جاتاہے) بیمار ہو گیا  ہو   تو ایسی حالت میں  اُسے ذبح کر کے کھایا  جا سکتا ہے،  اور اگر کوئی حرام جانور اس طرح بیمار ہو گیا ہو کہ اس پر دوا اثر نہ کر رہی ہو  اور  تکلیف میں ہو تو اُسے راحت دینے کی غرض سے ذبح کیا جا سکتا ہے،  اور اگر ذبح کرنا دشوار ہو تو  اس کو  مارنے کے لیے کوئی  دوسری   صورت بھی    اختیار کی جا سکتی ہے۔ 

الفتاوى الهندية (5/ 361):

" وكذا الحمار إذا مرض و لاينتفع به فلا بأس بأن يذبح فيستراح منه، كذا في الفتاوى العتابية."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144208200480
تاریخ23-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں