بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اپنی فارمیسی ڈگری کسی اور کو کرایہ پر دینے کا حکم

سوال

اپنی فارمیسی  کی ڈگری کسی کو کاروبار چلانے کے لیے دینا کیسا ہے،  جب کہ مجھےنفس ڈگری پر ماہانہ اجرت دے گا ، تو میرے لیے یہ اجرت لینا کیسا ہے؟  اور اس کے لیے یہ کاروبار کیسا ہے؟

جواب

کسی بھی شعبے کا لائسنس یا ڈگری  جو کسی شخص یا کمپنی کو حکومت کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے وہ خاص اس شخص یا کمپنی کے لیے اس شعبہ کو اختیار کرنے کا اجازت نامہ ہوتا ہے، کسی اور کے لیے اس لائنسس کو استعمال کی قانوناً اجازت نہیں ہوتی اور حکومت کی ایسی جائز پابندیاں جو مفادِ عامہ کی مصلحت میں ہوں ان کی پاس داری شرعاً بھی لازم ہوتی ہے۔

لہذا  فارمیسی  ڈگری جس کے لیے گورنمنٹ نے جاری کی ہے، اس کے علاوہ کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، نیز یہ اجازت نامہ کوئی ایسا مال نہیں ہے جس کو کرایہ پر دیا جاسکے یا فروخت کیا جاسکے، اس لیے اس کو کرایہ پر دینا اور لینا اور اس کی آمدنی دونوں ناجائز ہیں۔

سنن الدارقطني میں ہے:

"عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:  «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى إِذَا حَرَّمَ شَيْئًا حَرَّمَ ثَمَنَهُ»."

(كتاب البيوع، رقم الحديث:1815، ج:3، ص:388، ط:دار عالم الكتب)

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200454
تاریخ23-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں