بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے علم کے بغیر عدالت سے لی ہوئی طلاق کا حکم

سوال

ایک عورت نے عدالت سے جاکر طلاق لے  لی شوہر کو اس کا علم نہیں،  عدالت نے طلاق دے دی ، آیا کہ شوہر کے علم میں لائے بغیر عدالت کی یہ طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

عدالت سے جاری شدہ ڈگری دیکھے بغیر حتمی طور پر جواب نہیں دیا جاسکتا۔ البتہ اصولی طور پر جواب یہ ہے کہ اگر  عدالت میں خلع کی بنیاد پر کیس دائر کیا گیا ہو  اور شوہر عدالت میں حاضر نہیں ہوا اور اس نے زبانی یا تحریری طور پر خلع کو قبول نہیں کیا تو شرعًا اس طرح کی یک طرفہ خلع کا اعتبار نہیں ہے،  کیوں کہ  خلع بھی دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے جس میں جانبین کی رضامندی ضروری ہے ،لہذا  شرعی طور پر خلع کے معتبر ہونے کے لیے میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے، شوہر کی اجازت ورضامندی کے بغیر یک طرفہ طور پر عدالتی خلع سے نکاح ختم نہیں ہوتا۔

نیز کسی شرعی سبب کے  بغیر عدالت کو   نکاح فسخ کرنے کا بھی اختیار  حاصل نہیں ہے، لہٰذا شوہر کے علم میں لائے بغیر طلاق بھی نہیں ہوتی۔

بدائع الصنائع میں ہے :

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول". (۳/۱۴۵، سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144208200443
تاریخ23-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں