بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سید کو زکات دینا

سوال

میرا ایک رشتہ دار ہے، جو  سید ہے بوجہ بیماری  کام نہیں کر سکتا ، کیا میں اس کو زکوات دے سکتا ہوں ؟

جواب

سید اگر ضرورت مند ہو تو اس کی زکات و صدقات واجبہ  کے علاوہ  دیگر  مدات سے مدد کرنی  چاہیے، زکات سید کو دینا  اور اس کے لیے لینا جائز نہیں، اور نہ ہی سید کو دینے سے زکات ادا ہوتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں صاف مال سے اپنے  مذکورہ سید  رشتہ دار کی مدد کریں،  خود نہیں کرسکتے تو اصحابِ خیر کو اس مصرفِ خیر کی طرف متوجہ کرسکتے ہیں، حلال آمدن سے سادات کے تعاون کے نتیجے میں ان شاء اللہ روزِ قیامت سردارِ دوجہان ﷺ کی شفاعت کی قوی امید ہے۔

مزید تفصیل کے  لیے دیکھیے:

سید کو زکات دینا کیسا ہے؟

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200440
تاریخ23-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں