بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مصنوعی دانتوں کے ساتھ غسل کرنے کا حکم

سوال

اگر کوئی آدمی مصنوعی دانت لگائے،  اس کے ساتھ فرض غسل ہوسکتا یا نہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ مصنوعی دانت اگر اس طرح لگوائے ہوں کہ جب چاہیں انہیں نکالا جاسکتا ہو تو پھر فرض غسل کرتے وقت ان مصنوعی دانتوں کو ہٹا کر کلی کرنا لازم ہوگا، ورنہ غسل نہیں ہوگا۔  لیکن اگر دانت اس طور پر لگوائے گئے ہوں کہ بلا مشقت ان کو ہٹانا ممکن نہ ہو تو پھر وہ جسم کا حصہ شمار ہوں گے اور فرض غسل  کرتے وقت انہیں نکالنے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ ان دانتوں کی موجودگی میں کلی کرنا کافی ہوگا۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله وكذا الإناء المضبب) أي الحكم فيه كالحكم في المفضض يقال باب مضبب أي مشدود بالضباب وهي الحديدة العريضة التي يضبب بها وضبب أسنانه بالفضة إذا شدها بها مغرب." 

(كتاب الحظر والابحة، ج:6، ص:344، ط:ايج ايم سعيد)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى.

(قوله: به يفتى) صرح به في المنية عن الذخيرة في مسألة الحناء والطين والدرن معللا بالضرورة."

(كتاب كتاب الطهارة، مطلب فى ابحاث الغسل، ج:1، ص:154، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله أعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200399
تاریخ22-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں