بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مغرب اور عشاء کے درمیان نوافل

سوال

 مجھے مغرب اور عشاء کے  درمیان نفل نماز کا پتا کرنا ہے!

جواب

بصورتِ  مسئولہ مغرب کی نماز  کی سنتوں کے بعد نوافل پڑھنا جس کو  صلاۃ الاوّابین  کہتے  ہیں، مستحب ہے، جس کی کم سے کم تعداد  چھ ہے، اور زیادہ سے زیادہ بیس رکعت ہے، مختلف احادیث میں صلوۃ الاوابین پڑھنے والوں کے  لیے بڑی فضیلتیں مذکور ہیں، جیسے کہ حدیث شریف میں ہے:

"عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من صلى بعد المغرب ست ركعات لم يتكلم فيما بينهن بسوء عدلن له بعبادة ثنتي عشرة سنةً»."

(سنن الترمذى، باب ماجاء فى فضل التطوع وست ركعات بعد المغرب، رقم الحديث:435، ج:2، ص:299، ط:مطبعة مصطفى)

"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:جو شخص مغرب کی نماز کے بعد چھ رکعتیں اس طرح پڑھے کہ ان کے درمیان کوئی بری بات زبان سے نہ نکالے تو یہ چھ رکعات اس کے لیے بارہ سال کی عبادت کے برابر شمار ہوں گے۔"

لہٰذا مذکورہ فضیلت حاصل کرنی ہو تو مغرب کی سنتوں کے متصل بعد دنیاوی امور سے متعلق بات چیت کیے بغیر چھ رکعت پڑھ لینی چاہییں۔ باقی  کسی دنیاوی کام میں مشغول ہونے کے بعد یا عشاء سے  پہلے سننِ غیرمؤکدہ کے  طور  پر بھی  نوافل   پڑھے جاسکتے ہیں۔

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200378
تاریخ22-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں