بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

امام سے پہلے سلام پھیرنا

سوال

اگر میں نے  امام سے پہلے سلام پھیرا توکیاکروں گا؟

جواب

مقتدی اگر تشہد پڑھنے کے بعد امام کے سلام پھیرنے سے پہلے ہی سلام پھیر دے تو اس کی نماز تو ہوجائے گی، لیکن کسی عذر کے بغیر مقتدی کا امام سے پہلے سلام پھیرنا مکروہِ تحریمی ہے، البتہ  اگر مقتدی سہوًا  (بھول کر) یا کسی عذر (مثلاً وضو ٹوٹنے یا نماز کا وقت ختم ہونے کے اندیشے) کی وجہ سے امام سے پہلے سلام پھیر دے تو کراہت نہیں رہے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 525):

’’ولو أتمه قبل إمامه فتكلم جاز وكره.

(قوله: لو أتمه إلخ) أي لو أتم المؤتم التشهد، بأن أسرع فيه وفرغ منه قبل إتمام إمامه فأتى بما يخرجه من الصلاة كسلام أو كلام أو قيام جاز: أي صحت صلاته لحصوله بعد تمام الأركان لأن الإمام وإن لم يكن أتم التشهد لكنه قعد قدره لأن المفروض من القعدة قدر أسرع ما يكون من قراءة التشهد وقد حصل، وإنما كره للمؤتم ذلك لتركه متابعة الإمام بلا عذر، فلو به كخوف حدث أو خروج وقت جمعة أو مرور مار بين يديه فلا كراهة كما سيأتي قبيل باب الاستخلاف (قوله: فلو عرض مناف) أي بغير صنعه كالمسائل الاثني عشرية وإلا بأن قهقه أو أحدث عمدًا فلا تفسد صلاة الإمام أيضا كما مر.‘‘

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200377
تاریخ22-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں