عورتوں کا حصولِ تعلیم کی غرض سے اپنے گھر میں تعلیم کا نظام ہوتے ہوئے دوسرے مدرسے میں جانے کا حکم
سوال
ایک گھر جس میں سات سال کے عرصہ سے ایک مدرسہ قائم ہے، جس میں حفظ ، ترجمہ قرآن اور بہشتی زیور پڑھایا جاتا ہے، جب کہ اس گھر میں دو فاضلات (خواتین) اور چار سے پانچ فضلاء موجود ہیں، تو کیا اس گھر سے دوسرے مدرسے (جوکہ ڈیڑھ سے دو کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے) بالغ بچیوں کا باقاعدگی سے جانا عند الشرع درست عمل ہے کہ نہیں؟
جواب
شرعی پردے کی پابندی کے ساتھ مسافتِ سفر سے کم فاصلے تک بالغ بچیوں کا تعلیم کے لیے جانا شرعًا مباح ہے، البتہ اپنے گھر میں یا گھر کے قریب مناسب دینی تعلیم کا انتظام موجود ہو تو پھر باہر جانا بہتر نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

