بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین دن تک تعزیت لازم قرار دینا

سوال

 تعزیت  میں  پیش امام کو تین دن تک بیٹھنا لازمی قرار دینا کیساہے ؟

جواب

کسی شخص  کے انتقال کے بعد تین دن تک تعزیت  کے لیے بیٹھنا  میت کے لواحقین  کے لیے جائز ہے، واجب  ان پر بھی نہیں، چہ جائیکہ   محلہ  کی مسجد کے پیش امام  یا کسی عالم پر اس کو لازم کیا  جائے، لہٰذا تعزیت  کے لیے تین  دن تک بیٹھنے کو لازم سمجھنا یا کسی اور پر لازم قرار دینا درست نہیں۔

"فتاویٰ ہندیہ" میں ہے:

’’ولا بأس لأهل المصيبة أن يجلسوا في البيت أو في مسجد ثلاثة أيام والناس يأتونهم ويعزونهم. ‘‘

(الفتاوى الهندية-كتاب الصلاة -مسائل في التعزية- صفحة -167، دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200350
تاریخ21-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں