بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فروخت کرنے کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ کی زکات

سوال

پلاٹ کی  قیمت بڑھنے پر بیچنے کی نیت سے پلاٹ خریدا، اب پلاٹ  کی قیمت دو کروڑ  ہوگئی ہے ، اس پر جو زکات بنتی ہے بندہ کے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ ادا کرے، اب بندہ کیا کرے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں  مذکورہ  پلاٹ  چوں کہ فروخت کرنے کی نیت سے خریدا تھا، لہذا جب تک  اسے فروخت کرنے کی نیت ترک کرکے اس میں رہائش  کی نیت نہ کرلی جائے یا اسے کرائے پر نہ دے دیا جائے، اس وقت تک ہر سال زکات کا سال مکمل ہونے پر اس کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے کل ویلیو کا چالیسواں حصہ یعنی  ڈھائی فیصد بطور زکات ادا کرنا آپ پر واجب ہوگا، زکات کی یک مشت ادائیگی چوں کہ شرعًا ضروری نہیں، لہذا حساب لگا کر جتنی زکات بنتی ہو اسے لکھ لیا جائے، اور سال بھر کے دوران تھوڑا تھوڑا  کرکے زکات ادا کرتے رہیں، اور آئندہ سال آنے سے پہلے پہلے ادا کرلیں۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200345
تاریخ21-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں