بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کزن کی لڑکی سے ہاتھ ملانا

سوال

کیا اپنی کزن کی لڑکی سے ہاتھ کا سلام کرسکتے ہیں؟  اور یہ نا محرم ہیں؟ چوں کہ یہ ہمارا رواج ہے۔

جواب

واضح رہے کہ نا محرم خواتین  سے   ہاتھ  ملانا  تمام فقہاءِ کرام  کے نزدیک بالاتفاق حرام ہے، اور اس کی دلیل نصوص میں موجود ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نا محرم خواتین کو چھونے پر  بھی شدید وعید سنائی ہے، (اور ہاتھ ملانے میں چھونا ہی نہیں، غیر محرم کا ہاتھ پکڑنا بھی پایا جاتاہے۔)

جیساکہ طبرانی میں بروایت حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان منقول ہے:

’’اپنے سر کو لوہے کہ کنگن سے زخمی کرنا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ نا محرم خاتون کو چھوئے‘‘۔

"عن معقل بن يسار رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لأن يُطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمسّ امرأة لاتحلّ له." رواه الطبراني". (صحيح الجامع 5045)

واضح ہو کہ کزن  کی طرح اس کی بیٹی بھی نامحرم ہوتی ہے،  چنانچہ  جو  وعید نامحرم سے ہاتھ ملانے سے متعلق وارد  ہوئی ہے وہی  وعید کزن کی لڑکی سے مصافحہ کرنے میں بھی پائی جائے گی،  اور ان رشتوں سے بے محابا ملنے سے مزید اجتناب کی ضرورت ہے کہ یہاں  فتنے میں  وقوع کا زیادہ خطرہ ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200336
تاریخ21-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں