بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بچہ کی تربیت کی نذر

سوال

ایک عورت  نے کہاہے  کہ جب میرا کوئی  بچہ پیدا ہوجائے گا تو  یہ میں کسی کو  دوں گی؛ کیوں کہ  میں اس کی  پرورش نہیں کرسکتی،  لیکن  اب   وہ  اپنی اس بات پر  نادم ہے تو  برائے مہربانی اس کا کوئی شرعی حل بتادیجیے!

جواب

صورتِ مسئولہ  میں عورت  کا یہ کہنا کہ میرا کوئی  بچہ  پیدا  ہوجائے  گا  تو  میں یہ کسی کو دوں  گی ؛ تاکہ وہ اس کی تربیت کرے؛ کیوں کہ میں اس کی پرورش نہیں کرسکتی۔ اس  کی  وجہ  سے کسی کے  حوالے کرنا لازم نہیں ہے، یہ نذر شرعًا معتبر نہیں ہے؛  لہذا اس ماں کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے،  اس کو چاہیے کہ اپنے اعتبار سے ہی اس بچے کی  اچھی سے اچھی تربیت کرے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200323
تاریخ21-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں