بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کافر کے پیسے مسجد کی تعمیر میں استعمال کرنا

سوال

کیا کسی کافر اور غیر مسلمان کے پیسے مسجد کی تعمیر میں استعمال کیے جاسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر کوئی کافر اپنے عقیدے کے مطابق نیکی کا کام سمجھ کر مسجد کی تعمیر میں خرچ کر رہا ہے اور اس کے تعاون کے بعد اس سے مسلمانوں کو دینی یا دنیوی نقصان کا اندیشہ بھی نہ ہو تو اس کے پیسے مسجد کی تعمیر میں استعمال کرنا جائز ہے۔

فتاوی رشیدیہ میں ہے :

"تعمیر ومرمت مسجد میں شیعہ وکافر کا روپیہ لگانا درست ہے۔"  (ص 534)

 فیہ ایضا :

"جس کافر کے نزدیک مسجد بنانا عمدہ عبادت کا کام ہے ،اس کے مسجد بنانے کو حکم مسجد کا ہوگا۔" (ص 534)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200285
تاریخ20-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں