بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دعائے قنوت کی جگہ دوسری دعا پڑھنا

سوال

وتر کی نماز میں دعائے قنوت کی جگہ دوسری دعا بھی پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

وتر  کی نماز میں قنوت پڑھنا واجب ہے، اور  مخصوص دعا «اللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِیْنُكَ ... الخ» پڑھنا مستحب ہے، دعائے قنوت کی جگہ اگر کوئی ماثور دعا ایسی پڑھی جو کلام الناس کے مشابہ نہ ہوتو اس سے بھی واجب ادا ہوجائے گا، البتہ استحباب  رہ جائے گا، ہاں دعائے قنوت پڑھنے کے ساتھ کوئی اور ماثور دعا بھی پڑھ لی تو حرج نہیں ہے، بلکہ  «اللّٰهُمَّ فِیْمَنْ هَدَیْتَ ... الخ» بھی پڑھ لینی چاہیے۔  اور اگر کسی شخص کو  دعائے قنوت یاد نہ ہو تو  «ربنا آتنا في الدنیا حسنةً وفي الآخرة حسنةً وقنا عذاب النار»پڑھ سکتاہے، (لیکن دعائے قنوت یاد کرنے کی کوشش جاری رکھے اور دعا ئے قنوت یاد ہوتے ہی اس کے  پڑھنے کا اہتمام کرے)۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 468):

"(قوله: وهو مطلق الدعاء) أي القنوت الواجب يحصل بأي دعاء كان في النهر، وأما خصوص: «اللهم إنا نستعينك» فسنة فقط، حتى لو أتى بغيره جاز إجماعًا."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200191
تاریخ18-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں