بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کنیت "ام ہانی"، بطور نام رکھنا

سوال

 بچی کا نام "ام ہانی"  رکھنا کیسا ہے؟ اکثر لوگ یہ نام رکھنے سے منع کر رہے ہیں کہ یہ نام رکھنا ٹھیک نہیں، یہ کنیت ہے،  نام نہیں!

جواب

’’ام‘‘ عربی زبان میں ’’ماں‘‘  کو کہتے ہیں اور ’’ہانی‘‘ عربی زبان کالفظ ہے، اس کامعنی ہے: پرمسرت، خوش دلی ، خوش حالی۔ ’’ام ہانی‘‘  کا مطلب ہوا ہانی کی ماں ،یہ نام نہیں کنیت  ہے، اس  لیے بہتر یہ ہے کہ صرف ’’ہانیہ‘‘  نام رکھیں۔  لیکن چوں کہ امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ  وجہہ   کی ہم شیرہ   کی کنیت ’’ام ہانی‘‘  تھی؛   لہذا ان کی نسبت سے اسے بطور نام رکھنا چاہیں  تو  یہ بھی درست ہے،  جیسا کہ بچے کا نام  "ابوبکر"  اور "ابوہریرہ"  رکھنا جائز ہے، بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نسبت سے یہ نام رکھنا  برکت کا باعث بھی ہوگا،   حال آں کہ یہ بھی اصلاً کنیت ہیں، نام نہیں۔

تاج العروس (1 / 513):

"{والهانىء: الخادم)، وفي الحديث أنه قال لأبي الهيثم بن التيهان: (لا أرى لك} هانئًا) قال الخطابي: المشهور في الرواية ماهنا أي خادما، فإن صح فيكون اسم فاعل من هنأت الرجل {أهنؤه هنأ إذا أعطيته.} وهانىء اسم رجل، وهانيء بن هانيء روى عن علي، (وأم هانيء) فاختة أو هند (بنت أبي طالب) عم رسول الله صلى الله عليه وسلم شقيقة علي كرم الله وجهه، أمهما فاطمة بنت أسد بن هاشم، أسلمت عام الفتح."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200178
تاریخ18-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں