بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سونے کی مدت کے متعلق

سوال

کتنا وقت سونا چاہیے؟   کم یا زیادہ سونے میں کوئی حرج تو نہیں ؟

جواب

شرعی طور پر سونے کی کوئی حد مقرر نہیں، البتہ اتنا سونا کہ اس کی وجہ سے طبیعت میں ایسی سستی آجائے کہ شرعی ذمہ داریاں (حقوق اللہ و حقوق العباد) ادا کرنے میں کوتاہی ہورہی ہو، یہ مناسب نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ایسی سستی سے پناہ مانگی ہے۔ نیز اتنا کم سونا کہ اس سے صحت متاثر ہو، اور اپنے جسم کی حق تلفی ہو، یہ بھی درست نہیں ہے۔

رہی یہ  بات کہ طبی فوائد و نقصان کے اعتبار سے سونے کی حد کیا ہے؟ تو اس کے متعلق طبی ماہرین سے رجوع کیا جائے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4 / 1651):

"(«اللهم إني أعوذ بك من الكسل») بفتحتين أي: التثاقل في الطاعة مع الاستطاعة، قال الطيبي: الكسل التثاقل عما لاينبغي التثاقل عنه، ويكون ذلك بعدم انبعاث النفس للخير مع ظهور الاستطاعة."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200154
تاریخ17-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں