بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شطرنج کا کاروبار

سوال

کیا شطرنج بنانا یا شطرنج کا کاروبار کرنا حلال  ہے  یا حرام  ہے؟

جواب

چوں کہ شطرنج  کھیلنا جائز نہیں، لہذا  اسے بنانا اور اس کا کاروبار کرنا بھی  ناجائز  ہے۔

تحفة الفقهاء (3 / 345):

"بعض أصحاب الحديث أباحوا اللعب بالشطرنج؛ لما فيه من تشحيذ الخاطر و لكن الصحيح هو الكراهة على ما روينا كل لعب حرام إلا ثلاثة."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200140
تاریخ17-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں