بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ماہانہ سیونگ ایک لاکھ ہو تو زکات کا حساب

سوال

میری ایک مہینے کی ایک لاکھ تنخواہ ہے، یعنی ہر ماہ ایک  لاکھ روپے اکاؤنٹ میں بڑھ جاتا ہے، سال کے آخر میں میرے اکاؤنٹ میں بارہ  لاکھ روپے جمع ہو جاتے ہیں،  ان بارہ لاکھ کی زکوٰۃ  کیسے ادا کرنی ہے،  اگر میں پہلے سے صاحب نصاب ہوں تو کیا حکم ہے؟  اور اگر صاحب نصاب نہ ہوں تو پھر کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ  میں پہلے سے صاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں جب آپ کی زکات کا سال مکمل ہوجائے، اس وقت آپ کی مذکورہ تنخواہ کی جمع شدہ رقم سمیت تمام قابلِ زکات مال (سونا، چاندی، نقدی، سامانِ تجارت) کے مجموعے کا چالیسواں حصہ  (ڈھائی فیصد) دینا آپ پر لازم ہوگا۔

اور اگر آپ صاحبِ نصاب نہیں تھے تو پہلے مہینے کی تنخواہ آجانے کے بعد  چوں کہ آپ صاحبِ نصاب بن گئے،  (بشرطیکہ اس تنخواہ میں سے آپ ماہانہ ضروری اخراجات ادا نہیں کرتے) لہذا اس دن سے حساب کرکے جب قمری سال پورا ہوجائے گا تو اس وقت  آپ کی مذکورہ تنخواہ کی جمع شدہ رقم سمیت تمام قابلِ زکات مال (سونا، چاندی، نقدی، سامانِ تجارت) کے مجموعے کا چالیسواں حصہ دینا آپ پر لازم ہوگا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2 / 267):

"(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200139
تاریخ17-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں