بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کی اذان کا حکم

سوال

آج کل انٹرنیٹ پر عورت کی آواز میں ایک اذان چل رہی ہے، تو میرا سوال ہے کہ عورت کی آواز میں اذان کا کیا حکم ہے؟ 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں شرعی طور پر عورتوں کے لیے اذان  کہنا جائز نہیں ہے۔ اگرنماز کے لیے عورت نے اذان دی تو اس کا اعادہ کیا جائےگا۔ نیز   یہ مسلمانوں کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ انٹرنیٹ پر بہت سی  چیزیں اسلام کے نام پر کی جاتی ہیں اور عینِ اسلام سمجھی جاتی ہیں جو حقیقتاً اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہوتی  ہیں۔

"ویکره أذان … امرأة".

(الدر المختار ۱/۳۶۴ باب الأذان)

"وکذا یعاد أذان امرأة".

(الدر المختار ۱/۳۶۵ایضاً)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200135
تاریخ17-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں