بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کسی کے پیسے ٹرانسفر کرنے میں ہونے والا موہوم خرچہ وصول کرنا

سوال

زید نے بینک میں اکاؤنٹ کھلوایا ہے،بکر نے اس سے کہا کہ آپ اپنے اکاؤنٹ پر میرے تین لاکھ روپے خالد کو بھیج د یں ۔ زید نے بکر سے کہا کہ بینک والے ایک لاکھ روپے بھیجنے پر چھ سو روپے کاٹتے ہیں تم  مجھے چھ سو روپے دو ۔ حال یہ ہے کہ بینک والے کبھی چھ سو روپے کاٹتے ہیں ا ور کبھی نہیں ؛ لہذا یہ چھ سو روپے زید کے لیے مطلقاً جائز ہے یا نہیں؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں زید کے لیےبکر سے رقم منتقل کروانے پر اتنے ہی اضافی پیسے لینا جائز ہے  جتنے بینک والے اس منتقلی  پر کٹوتی کریں، اس  سے  زیادہ لینا یا بینک کے کٹوتی نہ کرنے کے باوجود  اضافی پیسے لینا زید کے لیے جائز نہیں۔  فقط و اللہ اعلم

مزید دیکھیے:

کسی کا چیک اپنے اکاؤنٹ میں ڈال کر کم پیسے واپس کرنا

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200042
تاریخ15-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں