بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نا محرم عورت کا بوسہ لینا گناہ ہے

سوال

اگر  کوئی  مرد  کسی نامحرم عورت کا بوسہ لے لے یا اُسے چھو لے تو کیا محض  چھو لینے کی بنیاد پر اس سے نکاح کرنا واجب ہو جاتا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں نامحرم عورت کا بوسہ لینا یا شدید ضرورت کے بغیر غیر محرم کو چھونا جائز نہیں ہے،  یہ سارے گناہ کے کام ہیں، ان سے اجتناب  بے حد  ضروری ہے، اور   جو  کچھ ہو چکا ہے اس پر صدقِ دل سے توبہ  و استغفار کیا جائے، اور آئندہ پردے کے شرعی احکام کا مکمل لحاظ کیا جائے۔ تاہم  اس کی وجہ سے  اس عورت کے ساتھ نکاح کرنا ضروری نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144208200037
تاریخ15-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں