بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عذر کی وجہ سے گھر پر نماز ادا کرنا

سوال

کیا ٹانگ میں ایکسیڈنٹ کی تکلیف کی وجہ سے باجماعت نماز کے  بجاۓ گھر میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟

جواب

جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنتِ  مؤکدہ ہے جو حکم کے اعتبار سے واجب کے قریب ہے، بلا عذر  مرد کا گھر میں نماز  پڑھنے کی عادت بنا لینا گناہ ہے، البتہ  جو شخص مسجد جانے سے معذور ہو اور گھر پر نماز ادا کر لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

ٍصورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص کو واقعتًا  اگر زیادہ  تکلیف ہے جس کی وجہ سے وہ مسجد نہیں جا سکتا تو گھر پر نماز ادا کرسکتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 552):

"(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) ... (وقيل: واجبة وعليه العامة) أي عامة مشايخنا وبه جزم في التحفة وغيرها. قال في البحر: و هو الراجح عند أهل المذهب (فتسن أو تجب) ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج) ... ولو فاتته ندب طلبها في مسجد آخر إلا المسجد الحرام ونحوه (فلاتجب على مريض ومقعد وزمن ومقطوع يد ورجل من خلاف) أو رجل فقط، ذكره الحدادي (ومفلوج وشيخ كبير عاجز وأعمى) وإن وجد قائدًا."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201670
تاریخ14-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں