بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دودھ پلانے والی عورت کے لیے رمضان کے روزے کا حکم

سوال

اگر عورت بچے کو اپنا دودھ  پلاتی ہو تو کیا وہ رمضان کے روزے چھوڑ سکتی ہے؟

جواب

دودھ  پلانے  والی عورت کو اگر اپنی یا بچے  کی جان کے نقصان کا خطرہ ہو ، یا ناقابلِ برداشت کمزوری لاحق ہوتی ہو،  اور   ماں کے دودھ کے علاوہ  بچے  کی غذا کا کوئی اور بند وبست نہ ہو تو اسے رمضان کا روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے، بعد میں اس روزہ کی صرف قضا لازم ہوگی۔ بصورتِ دیگر روزہ رکھنا ضروری ہوگا۔

 المبسوط للسرخسي (ج:3، ص:99، ط:دار المعرفة - بيروت):

’’وإذا خافت الحامل، أو المرضع على نفسها أو ولدها أفطرت لقوله صلى الله عليه وسلم: «إن الله تعالى وضع عن المسافر شطر الصلاة والصوم وعن الحامل والمرضع الصوم»؛ ولأنه يلحقها الحرج في نفسها أو ولدها، والحرج عذر في الفطر كالمريض والمسافر، وعليها القضاء ولا كفارة عليها؛ لأنها ليست بجانية في الفطر ولا فدية عليها عندنا.‘‘

فقط و الله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201640
تاریخ13-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں