بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضاعت کب ثابت ہوتی ہے؟

سوال

میرے بچے کی عمر 4 سال یا  اس سے زیادہ تھی، اس وقت میری بیوی نے میرے بھتیجے کو دودھ پلایا جو اس وقت چند ماہ کا تھا، تو کیا رضاعت ہوگی؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  سائل کی اہلیہ نے  چوں کہ مدتِ  رضاعت کے دوران سائل کے    چند  ماہ کے بھتیجے کو دودھ پلایا تھا، جس  کی   وجہ سے رضاعت ثابت ہوچکی ہے، سائل کے بچے کی عمر چار سال ہونے سے رضاعت کے ثبوت پر فرق نہیں پڑے گا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"قليل الرضاع وكثيره إذا حصل في مدة الرضاع تعلق به التحريم كذا في الهداية. قال في الينابيع. والقليل مفسر بما يعلم أنه وصل إلى الجوف، كذا في السراج الوهاج.

و وقت الرضاع في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - مقدر بثلاثين شهرًا. و قالا: مقدر بحولين، هكذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الرضاع، ١ / ٣٤٢، ط: دار الفكر)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201636
تاریخ13-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں