بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ترکہ کی رقم پر زکوۃ

سوال

ہم پانچ بھائی ہیں اور ہمارے والد فوت ہوگئے ہیں۔ ہم ایک مکان کے وارث ہیں۔ ہم اپنا حصہ بانٹنے کے  لیے مکان فروخت کررہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں مکان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم پر زکوٰۃ  ادا کرنے کی ضرورت ہے؟ 

جواب

مرحوم کے ترکہ پر تقسیمِ میراث سے پہلے زکات واجب نہیں ہوتی تا وقتیکہ اسے شرعی ورثاء میں تقسیم نہ کردیا جائے، پھر جس شخص کے حصے میں وہ مال آئے اگر وہ پہلے سے صاحبِ نصاب ہو تو دیگر اموال کے ساتھ ملاکر اس کی زکات ادا کرنی ہوگی۔  بصورتِ  دیگر اگر وہ رقم  بقدرِ نصاب بھی ہو اور تقسیم کے بعد ہر وارث کے پاس اس پر مکمل سال بھی گزر جائے تب زکات لازم ہوگی۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 10)

"و وجوب الزكاة وظيفة الملك المطلق وعلى هذا يخرج قول أبي حنيفة في الدين الذي وجب للإنسان لا بدلا عن شيء رأسا كالميراث بالدين والوصية بالدين، أو وجب بدلا عما ليس بمال أصلا كالمهر للمرأة على الزوج، وبدل الخلع للزوج على المرأة، والصلح عن دم العمد أنه لا تجب الزكاة فيه."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201625
تاریخ13-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں