بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مروجہ اسلامی بینکوں سے گاڑی خریدنے کا حکم

سوال

اسلامی بینک سےگاڑی خریدنا کیسا ہے ؟

جواب

مروجہ اسلامی بینکوں سے  گاڑی خریدنے کا جو طریقہ رائج ہے  اس میں  بینک اور   خریدار  کے  درمیان معاہدہ کے تحت دو عقد ہوتے ہیں، ایک بیع (خریدوفروخت) اور دوسرا اجارہ (کرایہ داری) کا عقدہوتا ہے، اور یہ طے پاتاہے کہ اقساط میں سے اگر کوئی  قسط وقتِِ   مقررہ پر جمع نہیں کرائی گئی تو  بینک کی  جانب سے مقرر ہ   جرمانہ   (اجباری  تصدق کے نام سے)   لیز کرانے  والا شخص ادا کرنے کا پابند ہو گا؛ اس لیے لیزنگ کے رائج طریقِ کار میں دو شرعی قباحتیں ہیں:

1۔ مالی جرمانہ لگانا شرعاً ناجائز ہے۔

جیساکہ "فتاوی شامی"  میں ہے:

"(قوله: لا بأخذ مال في المذهب)... ؛ إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي".

(باب التعزير:مطلب في التعزير بأخذ المال ٦١/٤ ط:سعيد)

 2۔۔  دوسری قباحت یہ ہے کہ لیزنگ میں دو عقد بیک وقت ہوتے ہیں، ایک عقد بیع کا ہوتا ہے جس کی بنا پر قسطوں کی شکل میں ادائیگی خریدار پر واجب ہوتی ہے اور اسی کے ساتھ ہی اجارہ (کرائے) کا معاہدہ بھی ہوتا ہے، جس کی بنا پر ہر ماہ کرائے کی مد میں بینک خریدار سے کرایہ بھی وصول کرتا ہے، اور یہ دونوں عقد ایک ساتھ ہی کیے جاتے ہیں جو کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرمان کی وجہ سے  ناجائز ہیں:

"«عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: نهی رسول الله صلي الله عليه وسلم عن بيعتين في بيعة".

(رواه مالك و الترمذي و أبوداؤد و النسائي)

"و عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: نهی رسول الله صلي الله عليه وسلم عن بيعتين في صفقة واحدة. رواه في شرح السنة.»"

پس مذکورہ  بالا شرعی قباحتوں کی وجہ سے مروجہ اسلامی بینکوں سے لیزنگ کے ذریعہ گاڑی خریدنا جائز نہیں ہے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201608
تاریخ13-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں