بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کورٹ کی خلع

سوال

میری بیٹی نے فیملی کورٹ سے خلع حاصل کرلی ہے، اس خلع کی شرعی حیثیت کیا ہے، گویا شرع کی نظر میں خلع ہوگی یا نہیں؟ ان کا وکیل رجسٹرار سے زبانی کہہ  گیا تھا کہ لڑکے کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس کے بعد کسی پیشی پر ان کا وکیل نہیں آیا، اب کورٹ نے خلع دے دی ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ اس کی کیا شرعی حیثیت ہے؟

جواب

خلع بھی دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس کے لیے جانبین یعنی میاں بیوی کی رضا مندی ضروری ہے، اگر عدالت شوہر کی رضامندی(خواہ زبانی یا تحریری) کے ساتھ  خلع کا فیصلہ کرتی ہے تو شرعاً خلع معتبر ہے اور اگر  شوہر کی رضا مندی کے بغیر خلع کا فیصلہ دے دیا ہے تو شرعاً یہ خلع معتبر نہیں ہوتا۔لہذا صورتِ مسئولہ میں  اگر واقعتًا لڑکے نے وکیل کو خلع قبول کرنے کا اختیار دیا تھا، اور اس  کے وکیل نے اس کی طرف سے رضامندی کا اظہار  کیا تو اس صورت میں خلع ہو گئی ہے، اب لڑکی اپنی عدت مکمل کرلے۔ اور اگر لڑکے نے وکیل کو یہ اختیار نہیں دیا تھا تو لڑکے سے اس کی تصدیق لی جائے، اس کے بعد ہی شرعی مسئلہ واضح طور پر بتایا جاسکتا ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة ولايستحق العوض بدون القبول".

 (كتاب الطلاق، باب الخلع 3/441، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201596
تاریخ13-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں