بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا مسجد میں آنا

سوال

عورتوں کا مسجد میں آنا کیسا ہے؟

جواب

عورتوں  کاجماعت سے نماز  پڑھنے کے لیے مسجد جانا مکروہِ تحریمی  ہے، رسول اللہ ﷺ  نے عورتوں کے لیے مسجد کے  مقابلہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھنے کو افضل قرار دیا ہے، پھر  حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے  دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں خواتین کو مساجد میں جماعت سے نماز پڑھنے سے روکا تو کسی صحابی نے اعتراض نہیں کیا، بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یوں فرماکر گویا تائید کردی کہ:  اگر رسول اللہ ﷺ اس زمانے میں عورتوں کي حالت دیکھتے تو آپ ﷺ انہیں مسجد میں آکر نماز ادا کرنے سے منع فرماتے۔ لہٰذا عورتوں کا جماعت سے نماز پڑھنے کے لیے مسجد جانا مکروہِ تحریمی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1 / 566) ط: سعید:

"(ويكره حضورهن الجماعة) ولو لجمعة وعيد ووعظ (مطلقاً) ولو عجوزاً ليلاً (على المذهب) المفتى به؛ لفساد الزمان، واستثنى الكمال بحثاً العجائز والمتفانية".

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201585
تاریخ13-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں