بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قعدۂ اخیرہ میں تشہد ترک کردینے کی صورت میں نماز کا حکم

سوال

اگر کوئی شخص قعدۂ اخیرہ میں تشہد چھوڑ دے تو  اس کی نماز ہو جائے گی یا نہیں؟

جواب

قعدۂ  اخیرہ میں تشہد کی مقدار بیٹھنا فرض ہے اور التحیات کا پڑھنا واجب ہے، اگر کوئی شخص قعدۂ اخیرہ میں بیٹھا، لیکن بھو ل کر  اس نے التحیات نہیں پڑھی، اس پر سجدۂ سہو لازم ہوگا، اگر سجدہ سہو کرلے گا تو اس کی نماز ہوجائےگی۔ اگر سجدۂ  سہو   نہ کیا تو  وقت کے اندر  یہ نماز  واجب  الاعادہ  ہوگی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 466):

" (والتشهدان) ويسجد للسهو بترك بعضه ككله، وكذا في كل قعدة في الأصح؛ إذ قد يتكرر عشراً.

 (قوله: والتشهدان) أي تشهد القعدة الأولى وتشهد الأخيرة".

 فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201561
تاریخ12-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں