بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ارحا نام رکھنا کیسا ہے؟

سوال

میری رہنمائی فرمائیں  کہ ارحا نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

’’اِرحاء‘‘ (الف کے نیچے زیر کےساتھ) عربی میں مستعمل نہیں ہے۔ اور  ’’اَرحاء‘‘  (الف پر زبر کے ساتھ۔أَرْحَاءُ) "  یہ عربی زبان کا لفظ ہے، اور جمع کے طور پر مستعمل ہے۔اس کی واحد  " رَحیٰ" ہے، جس کے معنی چکی اور داڑھ  کے ہیں، نیز اس کے اندر کسی چیز کو گھمانے کا معنی بھی ہے،  نام رکھنے کے لیے  لفظ مناسب نہیں۔  بہتر ہے کہ صحابیات کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیں۔

ہماری ویب سائٹ پر اسلامی ناموں کی فہرست اور تلاش کی سہولت بھی موجود ہے ،وہاں سے بھی انتخاب کرسکتے ہیں۔

المغرب فی ترتیب المعرب میں ہے:

"رحي"  الرَّحى مؤنث وتثنيتُها رحَيان والجمع أرحاءُ وأَرْحٍ وأنكر أبو حاتم الأَرْحِية. وقوله: ما خلا الرَحَى أي وَضْعَ الرحى وتستعار، الأرحاء للأضراس وهي اثنا عشَر".

(باب الراء ص نمبر  ۱۸۶،دار الکتاب العربی)

القاموس الوحید میں ہے:

"الرحی و الرحا : چکی (آٹا پیسنے کی) ج؛ ارحٍ و اَرحاء و رحی و ارحیۃ."

(ص نمبر ۶۰۹،ادارۃ الاسلامیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201496
تاریخ11-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں