بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفلی روزہ تنہا رکھنے کا حکم

سوال

کیانفلی روزہ تنہارکھناچاہیے؟

جواب

نفلی  روزہ تنہا رکھنا ضروری نہیں ہے، نہ ہی تنہا رکھنا منع ہے، اگر چاہے تو  ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے یا پے در پے کئی دن روزے رکھے دونوں صورتیں جائز ہیں، البتہ دس محرم الحرام (عاشوراءکے دن ) کا تنہا روزہ  رکھنا مکروہ ہے،  اس کے ساتھ نو محرم یا گیارہ محرم کا روزہ ملایا جائے۔

اسی طرح جمعے  کے  دن  کو خاص کرکے موجبِ  فضیلت سمجھ کر روزہ رکھنا یا اس کا التزام کرنا مکروہ ہے، لیکن جمعے کا تنہا روزہ مطلقًا ممنوع نہیں ہے۔ (مستفاد از  آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد 3۔450)    فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201448
تاریخ10-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں