بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قضا روزوں کی تعداد یاد نہ ہو

سوال

اگررمضان کےروزےرہ جائیں اوریادنہ رہے کہ کتنےرہ گئےہیں،توایسی صورت میں کیا کیاجائے؟

جواب

رمضان المبارک کے چھوڑے گئے ہر ایک روزے کے بدلے ایک روزہ قضا  کرنا ضروری ہے، اور اگر  ان روزوں کی یقینی  تعداد  یاد نہیں تو  غالب گمان کے مطابق ایک تعداد مقرر کریں،اور قضا کی نیت سے اتنے  روزے رکھیں۔ اور اس میں بھی  بہتر یہ ہے کہ احتیاطاً اس تعداد سے کچھ زیادہ روزے رکھ لیے جائیں۔ نیز آئندہ خوب اہتما م فرمائیں کہ بلا عذر  شرعی کوئی روزہ  قضا  نہ ہو۔

(مستفاد: فتاویٰ دار العلوم دیوبند، ج۴، ص۲۶۲، ط: دار الاشاعت۔۔۔۔ و کفایت المفتی:ج۴، ص۱۷۸، ط: دار الاشاعت)

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (1 / 447):

"من لايدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201427
تاریخ10-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں