بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جمعہ کا مختصر خطبہ

سوال

جمعہ کا مختصر خطبہ ارسال کردیں!

جواب

جمعہ  کے لیے کوئی خاص خطبہ مقرر  نہیں ہے، جمعے کے  خطبہ  میں مسنون  یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالی کی حمد و ثناء، درود شریف اور قرآنی آیات اور احادیثِ نبویہ ہوں، اگر کسی کو خطبہ یاد نہ ہو تو دیکھ کر بھی پڑھ  سکتے ہیں، اور (موجودہ احوال میں گھروں وغیرہ پر جمعہ پڑھتے ہوئے) اگر کوئی دیکھ کر بھی نہ پڑھ سکتا ہو تو  پہلے خطبہ میں صرف سورہ فاتحہ اور دوسرے میں سورہ اخلاص یا سورہ عصر پڑھ لینے سے بھی جمعہ کا خطبہ ادا ہوجائے گا؛ کیوں کہ جمعے کے خطبے کا رکن ’’ذکر اللہ‘‘ اس میں پایا جاتاہے۔

تاہم  دو جامع خطبے درج ذیل ہیں، انہیں جمعہ میں  پڑھ سکتے ہیں:

جمعہ کا خطبہ اولیٰ:

اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ نَسْتَعِيْنُه وَنَسْتَغْفِرُه وَنَعُوْذُ باللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهٗ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِىَ لَه، وَاَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُه وَرَسُوْلُه، اَرْسَلَه بِالْحَقِّ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا بَيْنَ يَدَىِ السَّاعَةِ مَنْ يُّطِعِ اللهَ وَرَسُوْلَه فَقَدْ رَشَدْ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا فَاِنَّه لَا يَضُرُّ اِلَّا نَفْسَه وَلَا يَضُرُّ اللهَ شَيْئًا.

اَمَّابَعْدُ! فَاِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيْثِ كَلاَمُ اللّٰهِ، وَأَوْثَقَ الْعُرىٰ كَلِمَةُ التَّقْوىٰ، وَخَيْرَ الْمِلَلِ مِلَّةُ إبْرَاهِيْمَ، وَأَحْسَنَ الْقَصَصِ هٰذَا الْقُرْآنُ، وَأَحْسَنَ السُّنَنِ سُنَّةُ مُحَمَّدٍ ﷺ ، وَأَشْرَفَ الْحَدِيْثِ ذِكْرُ اللّٰهِ، وَخَيْرَ الأُمُوْرِ عَزَائِمُهَا، وَشَرَّ الأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا، وَأَحْسَنَ الْهَدْیِ هَدْيَ الأَنْبِيَاءِ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلٰى، وَمَا قَلَّ وَكَفٰى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهٰى، وَمَنْ يَغْفِرْ يَغْفِرِ اللّٰهُ لَه، وَمَنْ يَعْفُ يَعْفُ اللّٰهُ عَنْهُ، وَمَنْ يَسْتَكْبِرْ  يَضَعْهُ اللّٰهُ، وَمَنْ يُطِعِ الشَّيْطَانَ يَعْصِ اللّٰهَ، وَمَنْ يَعْصِ اللّٰهَ يُعَذِّبْهُ، اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ وَلِاُمَّةِ سَيِّدِنَا وَ مَوْلَانَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ لِيْ وَلَكُمْ.

جمعہ کا خطبہ ثانیہ:

"اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِیْنُه وَنَسْتَغْفِرُه وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئاٰتِ أَعْمَالِنَا مَن یَّهْدِهِ اللهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ یُّضْلِلْهُ فَلاَ هَادِيَ لَهُ، وَاَشْهَدُ أَنْ لَآ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَه لَا شَرِیْكَ لَه، وَأَشْهَدُ أَنَّ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُه وَرَسُوْلُه، أَرْسَلَه بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرَا بَیْنَ یَدَيِ السَّاعَةِ، مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَه فَقَدْ رَشَدْ، وَمَنْ یَّعْصِهِمَا فَاِنَّه لاَ یَضُرُّ  إِلاَّ نَفْسَه وَلاَ یَضُرُّ اللّٰهَ شَیْئاً، أَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمْ: {إِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰئِكَتَه يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا} اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُوْلِكَ وَصَلِّ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَبَارِكْ عَلٰى سَیِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّأَزْوَاجِه وَذُرِّیَّتِه وَصَحْبِه أَجْمَعِیْن. قَالَ النَّبِیُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ: اللّٰهَ اللّٰهَ فِيْ اَصْحَابِيْ لاتَتَّخِذُ وْهُمْ غَرَضًا مِنْ بَعْدِيْ، فَمَنْ اَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّيْ أَحَبَّهُمْ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِيْ أَبْغَضَهُمْ، وَخَیْرُ أُمَّتِيْ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَهُمْ، اِنَّ اللهَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآءِ ذِي الْقُرْبٰی وَیَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْيِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَكَّرُوْنَ، فَاذْكُرُوا اللّٰهَ یَذْكُرْ كُمْ وَادْعُوْهُ یَسْتَجِبْ لَكُمْ وَلَذِكْرُ اللّٰهِ تَعَالٰى أَكْبَرُ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ".

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201305
تاریخ08-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں