بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفلی صدقہ سے مدرسہ کا کرایہ ادا کرنا

سوال

 ہمیں دوکان سے روزانہ کے حساب سے جو آمدن ہوتی ہے،  اس میں سے چند فیصد مقرر کیا ہوا ہے ہم نے اللہ کے نام کا ۔ تواس سے  مہینے کے آخر  میں  مناسب رقم جمع ہو جاتی  ہے ہمارے پاس۔ اب  پوچھنا یہ  ہے کہ ایک مدرسہ ہے  جس کی جگہ کرایہ پر  ہے، اس  رقم میں سے ہم اس کا ماہانہ کرایہ ادا کر سکتے ہیں ؟

جواب

نفلی صدقہ جائز کاموں میں استعمال کرنا جائز ہے، اس کا مصرف صرف  صدقاتِ واجبہ والا نہیں ؛ لہذا  اس سے مدرسہ  کی جگہ کا کرایہ ادا کرنا  جائز  ہونے کے ساتھ ساتھ ثواب بھی ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5 / 698):

"لأنّ الصدقة على الغني هبة."

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201280
تاریخ07-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں