بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کلما کا مطلب

سوال

كلما كا مطلب كيا  ہے  جب بھي يا جب جب؟

جواب

لفظ  ’’کلما‘‘ حرف شرط ہے جو  کہ شرط کے تکرار اور دوام کے معنی میں آتا ہے، لہذا اسے ’’جب جب‘‘یا ’’ جب کبھی‘‘ یا ’’جب بھی‘‘ہر معنی میں جو  تکرار و دوام پر دلالت کرے استعمال کیا جا سکتا ہے، بخلاف باقی  حروف شرط کے وہ تکرار و دوام پر دلالت نہیں کرتے، بلکہ ان میں صرف ایک بار شرط پائی جانے کی صورت میں حنث متحقق ہوگا دوسری بار شرط پائی جانے کی صورت میں بندہ حانث نہیں ہوگا۔

الفتاوى الهندية (1 / 415):

"ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت لأنها تقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده إلا في كلما لأنها توجب عموم الأفعال فإذا كان الجزاء الطلاق والشرط بكلمة كلما يتكرر الطلاق بتكرار الحنث حتى يستوفي طلاق الملك الذي حلف عليه فإن تزوجها بعد زوج آخر وتكرر الشرط لم يحنث عندنا، كذا في الكافي".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201238
تاریخ06-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں