بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پاک قطر تکافل کمپنی میں بحیثت تکافل ایجنٹ کام کرنے کا حکم

سوال

پاک قطر تکافل کمپنی میں بحیثیت  تکافل ایجنٹ کام کرنا کیسا ہے؟

جواب

بصورتِ  مسئولہ  "پاک قطر فیملی تکافل"  اور  موجودہ  دور  میں  اس  جیسی  دیگر  پالیسیاں شرعی مفاسد یعنی سود،جوّا، غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہیں، نیز ایسی کمپنیوں میں کسی بھی طرح کا کام کرنا گناہ کے کام پر معاونت کے زمرے  میں آتا ہے، لہذا کسی بھی تکافل کمپنی میں کسی طرح کی بھی  ملازمت کرنا  از رُوئے شرع  جائز نہیں ہے اور  نہ ہی اس کی تنخواہ حلال ہے۔

احکام القرآن میں ہے:

"ولا خلاف بین أهل العلم في تحریم القمار".

(أحکام القرآن للجصاص، ج:1، ص:450، ط:قدیمي کتب خانه)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"{ولا تعاونوا على الاثم و العدوان}، یأمر تعالی عبادہ المؤمنین بالمعاونة علی فعل الخیرات وهوالبر و ترك المنکرات و هو التقوی، و ینهاهم عن التناصر علی الباطل و التعاون علی المآثم والمحارم".

(تفسیر ابن کثیر، ج:2، ص:10، ط:دارالسلام)

فتاوی شامی میں ہے:

"ویکره تحریمًا بیع السلاح من أهل الفتنة أن علم؛ لأنّه إعانة علی المعصیة".

(رد المحتار علی الدر المختار، ج:4، ص:268، ط:ایچ ایم سعید)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201209
تاریخ06-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں