بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسجد کی رقم کو بدلنے کا حکم

سوال

کیا مسجد کی رقم کو بدلنا یا مسجد کے پیسوں میں سے کھلے پیسے لینا جائز ہے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ مسجد کی رقم امانت ہوتی ہے، اور اس رقم میں تصرف کرنا یا اس کو بدلنا یہ اس مسجد کی اجتماعی رقم میں تصرف کرکے اصحابِ حقوق کے ساتھ خیانت کرنا ہے،اور خیانت کرناجائز نہیں ہے۔لہذا مسجد کی رقم مسجد کی ضروریات ومصالح میں ہی خرچ کرنا چاہیے، تاہم مسجد کی رقم سے محض  کھلے پیسے لے کر اسی کے بقدر  پیسے رکھنے  کی گنجائش ہے، بشرطیکہ مسجد کی رقم سے کھلا لیتے وقت ہی بندھے ہوئے پیسے مسجد کی رقم میں رکھ دیے جائیں۔

العناية شرح الهداية  میں ہے:

"وَالْأَصْلُ فِيهِ أَنَّ الشَّرْطَ إذَا كَانَ مُفِيدًا وَالْعَمَلُ بِه مُمْكِنًا وَجَبَ مُرَاعَاتُهُ وَالْمُخَالَفَةُ فِيهِ تُوجِبُ الضَّمَانَ."

(كتاب الوديعة، ج:8، ص:494، ط:دارالفكر)

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201180
تاریخ05-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں