بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز پڑھ لینے کے بعد ہونے والی اذان کا جواب دینا

سوال

اگر قریب کی مسجد سےاذان کی آواز بہت زور سےآرہی ہو تو کیا اس دوران نفل نماز  پڑھ سکتے ہیں؟ جب کہ ہم نے فرض نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لی ہو؟

جواب

1)  واضح رہے کہ اذان کا قولی (زبان سے) جواب دینا مستحب ہے، اور پہلی اذان کا جواب دینا چاہیے۔ باقی اذانوں کا جواب دینا افضل ہے ، محلہ کی مسجد کی اذان ہو یا غیر محلہ کی ؛ لہٰذا جب ایک شخص اذان کا قولی و عملی جواب دے چکا ہے(کہ نماز  پڑھ چکا ہے) تو اب اس  کے لیے بعد میں ہونے والی اذان کے وقت نفل پڑھنے کی اجازت ہے۔

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

"وإذا تعدد الأذان يجيب الأول" مطلقًا سواء كان مؤذن مسجده أم لا؛ لأنه حيث سمع الأذان ندبت له الإجابة ثم لايتكرر عليه في الأصح ذكره الشهاب في شرح الشفاء."

(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (1 / 202)باب الأذان)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201141
تاریخ04-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں