بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

باتیں کرتے ہوئے مرغی ذبح کرنے کا حکم

سوال

 ہم جب مرغی کی دکان پر جاتے ہیں تو دکان والا کسی اور سے باتوں میں لگا ہوتا ہے،  یہ  پھر وہ تکبیر نہیں پڑھتا ہے تو کیا وہ جانور حلال ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ذبح کرنے والا  اگر جان بوجھ کر (یعنی یاد ہونے کے باوجود بسم اللہ  ارادہ   کے ساتھ)   بسم اللہ چھوڑ دے تو  مذبوحہ جانور  حلال نہیں ہوتا، اور اگر  "بسم اللہ"  بھول جائے  اور اسی حال میں جانور  ذبح کردے تو وہ جانور  حلال ہوجاتا ہے؛  لہذا صورتِ  مسئولہ میں مرغی والا اگر "بسم اللہ"  یاد ہونے کے باوجود  جان بوجھ کر چھوڑ دیتا ہے تو مرغی حلال نہیں ہوگی اور اگر باتوں کی وجہ سے "بسم اللہ"  بھول گیا اور مرغی ذبح کردی تو   مرغی حلال ہوجائے گی ۔

نیز یہ بھی واضح رہے کہ جب کوئی شخص دوکان والوں کے پاس مرغی خریدنے  جائے اور اس طرح کی چیزوں کا اندیشہ ہو تو دوکان والے کو پہلے ہی تاکید کر دے کہ وہ اہتمام سے "بسم اللہ"  پڑھے۔

الفتاوى الهنديةمیں ہے:

"ولاتحل ذبيحة تارك التسمية عمدًا، وإن تركها ناسيًا تحل."

(کتاب الاضحیۃ ج نمبر ۵ ص نمبر ۲۸۸،دار الفکر) 

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201110
تاریخ03-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں