بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صحت یاب ہونے پر بکرا ذبح کرنے کی نذر ماننا

سوال

بیماری سے صحت یاب ہونے پر بکرا ذبح کرنے کی نذر مانی تو کیا اس صدقے کے بکرے پر مریض کا ہاتھ پھروانا ضروری ہے؟

جواب

اگر بیماری سے صحت یاب ہونے پر بکرا ذبح کرنے کی نذر مانی ہے تو نذر پوری کرنے کے لیے صرف بکرا ذبح کرنا لازم ہے، مریض کے ہاتھ پھروانے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔

الفتاوى الهندية میں ہے:

’’ أما الذي يجب على الغني والفقير فالمنذور به بأن قال: لله علي أن أضحي شاةً أو بدنةً أو هذه الشاة أو هذه البدنة.‘‘

(کتاب الأضحیة ۵ / ۲۹۱ ط: دار الفکر)

الفتاوى الهندية میں ہے::

’’ نذر أن يضحي ولم يسم شيئًا، عليه شاة و لايأكل منها و إن أكل عليه قيمتها، كذا في الوجيز للكردري.‘‘

(کتاب الأضحیة ۵ / ۲۹۵ ط: دار الفکر)

فقط و الله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144207201091
تاریخ03-03-2021

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں